بنگلورو،26؍جولائی(ایس او نیوز) سرکاری میڈیکل کالجوں اور دیگر کالجوں میں سرکاری کوٹے کے تحت مفت سیٹ حاصل کرنے اور سرکاری خرچ پر میڈیکل تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کو دیہی علاقوں میں خدمات لازمی قرار دیتے ہوئے ایک قانون لایا جائے گا۔
یہ بات آج وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہی۔ شہر کے جئے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے احاطے میں ایم آر آئی ڈویژن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ دیہی علاقوں میں عوام کو طبی خدمات تک رسائی ہونی چاہئے، اس ضمن میں وہ جلد ہی وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن اور محکمے کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ میٹنگ کریں گے، جس میں یہ فیصلہ لیا جائے گا کہ سرکاری سیٹ پر ڈاکٹر بننے والے امیدواروں کے لئے دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سبھی ڈاکٹر اگر صرف شہروں میں رہنا چاہیں گے تو دیہی علاقوں میں طبی خدمات کیسے پہنچیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس کے لئے اگست کے پہلے ہفتے میں ریاست کے تمام ہیلتھ افسروں کی میٹنگ طلب کی جائے گی، جس میں جے دیوا ، سنجے گاندھی ، اندرا گاندھی، قدوائی ، راجیو گاندھی اسپتالوں کے ڈائرکٹروں کو بھی طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان چاروں اسپتالوں کو بین الاقوامی سطح کے اداروں کے طور پر آگے بڑھانے کے لئے حکومت ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے تیار ہے۔ ان اداروں کے علاوہ تمام سرکاری اسپتالوں کی سہولتوں کو بھی بہتر بنانے اور ریاست کے شعبۂ صحت کو ملک بھر میں مثالی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ غریب عوام کو ان اسپتالوں میں معیاری علاج تک رسائی ہو اور پھر دیہی علاقوں میں عوام کو ڈاکٹروں کے لئے پریشان نہ ہونا پڑے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے 2007 میں قانون منظور کیا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے اسے موثر طور نافذ کرنے سے روکا جارہاہے، ریاستی حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ سرکاری کوٹے میں میڈیکل سیٹ حاصل کرنے والے سبھی امیدوار مقرر مدت تک دیہی علاقوں میں خدمات انجام دیں۔ بصورت دیگر ان کی میڈیکل ڈگری منظور نہیں کی جائے گی اور حکومت کی طرف سے ان پر جو بھی خرچ کیا گیا ہے وہ جرمانے کے ساتھ وصول کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ جے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ریاست کا واحد اسپتال ہے جہاں قلبی اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے غریب اور متوسط طبقات کا بہت بڑا حصہ رجوع کرتا ہے، اس اسپتال میں سالانہ 50لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ جئے دیوا اسپتال کی خدمات کواس قدر شہرت ملی ہے کہ خود صدر امریکہ نے اپنے تذکروں میں اسے شامل کیا ہے۔
اس موقع پر وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے ایس ایس ایل سی مکمل کرنے والے طلبا کو فروغ ہنر پر مبنی تربیت سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس تربیت میں طبی میدان کے مختلف شعبوں کو بھی شامل کیا جائے گا اور تربیت پانے والوں کی اکثریت سے جئے دیوا اسپتال جیسے ادارے استفادہ کرسکیں گے اور اس سے بے روزگار دو ر کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے دو سال قبل سی ای ٹی کے ذریعے میڈیکل میں داخلوں کے سلسلے کو ختم کرکے این ای ای ٹی کے ذریعے داخلوں کو لازمی قرار دینے سے ریاست کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی طلبا اس این ای ای ٹی امتحان کی وجہ سے مواقع سے محروم ہورہے ہیں اسی لئے ریاستی حکومت سے عنقریب مرکز سے گزارش کی جائے گی کہ این ای ای ٹی کے تحت میڈیکل کورسوں میں داخلوں کے لئے 50فیصد سیٹیں ریاست کے طلبا کو مخصوص کردی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال ریاست میں ڈیمڈ یونیورسٹیوں کی شروعات کے نتیجے میں 30تا40 فیصد میڈیکل سیٹیں دستیاب رہیں گی۔